سمندرپر”سیف سٹی” بنانےکی (ایم او یو) پردستخط
اسلام آباد: بحریہ ٹاؤن آف پاکستان کے سابق چیئرمین ملک ریاض اور امریکی سرمایہ کارتھامس کریمر کی ایسوسی ایٹ کمپنیوں کے درمیان بودھا آئی لینڈ سٹی مفاہمتی یادواشت پر دستخط ہو گئے ہیں ۔
بودھا آئی لینڈ سٹی کراچی ڈیفنس سے ساڑھے تین کلومیٹر سمندر کے اندر بنایا جائے گا، سمندر کے اوپر دنیا کا جدید ترین 6 رویہ پل بنا کر اسے کراچی ڈیفنس سے منسلک کیا جائے گا ۔
ترجمان بحریہ ٹاؤن کے مطابق بودھا آئی لینڈ سٹی میں 12 ہزار ایکڑ رقبے کو 5سے 10سالوں میں ڈویلپ کر دیا جائے گااور 2016ء سے وہاں رہائش گاہیں لوگوں کو دے دی جائیں گی۔
مشترکہ منصوبے پر 15 سے 20 ارب ڈالر لاگت آئے گی، منصوبے میں دنیا کی بلند ترین عمارت ، دنیا کا سب سے بڑا مال، نیٹ سٹی، ایجوکیشن سٹی ، ہیلتھ سٹی اور میڈیا سٹی بنائی تعمیرکی جائے گی، منصوبےسے 25لاکھ افراد کو روزگار ملےگا، منصوبے میں 1لاکھ 25ہزار گھر تعمیر کیے جائیں گے جس میں 10 لاکھ افراد رہائش پذیر ہوں گے۔
منصوبے پر بحریہ ٹاون کے سابق چیئرمین ملک ریاض اور امریکی سرمایہ کار تھامس کریمرکےمابین دارالحکومت اسلام آباد میں مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے گئے ۔
اس موقع پر امریکی سرمایہ کار تھامس کریمر کا کہنا تھا کہ بودھا آئی لینڈ سٹی ایک منفرد اور زبردست پراجیکٹ ہے جس سے دنیا بھر میں پاکستان کو ایک نئی شناخت ملے گی۔
بحریہ ٹاؤن کے سابق چیئرمین ملک ریاض کا کہناتھا کہ دنیا بھر کے کاروباری افراد پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں،اگر انہیں کام کرنے دیا جائے تو وہ 2سال میں پاکستان کو دبئی اور امریکا بنا سکتے ہیں۔

No comments:
Post a Comment